حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نمائندۂ ولی فقیہ صوبۂ ہمدان حجت الاسلام والمسلمین حبیب اللہ شعبانی نے 28 صفر اور امام رضا علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور کے حالات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: امام حسن علیہ السلام نے اپنی امامت کے آغاز ہی سے معاویہ کے مقابلے میں موقف اختیار کیا اور ابتدا میں اسے بیعت کی دعوت دی لیکن معاشرہ کے حالات اور لوگوں کی امام کے ساتھ عدمِ تعاون نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ امام کو صلح قبول کرنے اور حکومت سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا: امام حسن علیہ السلام کے دور کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ الٰہی اہداف کا حصول اور معاشرے میں عدل کا قیام عوام کی موجودگی اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ اگر معاشرے میں معصوم امام بھی موجود ہو، تب بھی عوام کے تعاون کے بغیر وہ الٰہی اہداف کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا۔
صوبۂ ہمدان میں نمائندۂ ولی فقیہ نے امام رضا علیہ السلام کے دور کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام رضا علیہ السلام کا دور بعض پہلوؤں سے آج کے حالات سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس زمانے میں بھی مسئلہ صرف مأمون اور ہارون کی حکومت نہیں تھا بلکہ داخلی اختلافات اور خود شیعوں کے درمیان باہمی کشمکش نے بھی امام کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی تھیں۔
انہوں نے حضرت شاہ عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کو امام رضا علیہ السلام کی جانب سے شیعوں کے اتحاد و وحدت کے تحفظ کی سفارش کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام نے باہمی اختلافات، لعن و طعن، تہمت، توہین اور مؤمنین کی عزت و آبرو کو پامال کرنے سے خبردار کیا تھا۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ اپنوں کے درمیان اختلاف اسلامی معاشرے کے لیے سب سے بڑے نقصانات میں سے ایک بن سکتے ہیں۔
انہوں نے ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کے منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمن کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک اندرونی اختلاف پیدا کرنا ہے۔ دشمن کوشش کرتا ہے کہ معاشی اور سماجی مسائل و مشکلات کو معاشرے میں دراڑ پیدا کرنے کے لیے استعمال کرے اور اختلاف پیدا کرنے کے بعد اپنے آئندہ اقدامات کے لیے زمین ہموار کرے۔
امام جمعۂ ہمدان نے کہا: رہبر معظم انقلاب کی جانب سے اتحاد کی مسلسل تاکید اور’’اتحادِ مقدس‘‘ پر زور کو تمام سیاسی و سماجی دھڑوں اور گروہوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور سب کو مل کر ملک کے مفادات کے تحفظ کی راہ میں آگے بڑھنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ